ہمارے گھر کے قریب ہی ایک داڑھی والا شخص پھل فروٹ کی ریڑھی لگاتا تھا جسے ہم لوگ سکھ سردار کی مناسبت سے سردار بولا کرتے تھے اک روز میں اس کی ریڑھی کے پاس ہی کھڑا اپنے کسی دوست کا انتظار کر رہا تھا ...اس روز سردار نے خربوزوں سے ریڑھی سجا رکھی تھی .کچھ دیر بعد ہی ایک سفید رنگ کی نیو چمچماتی کار نے ریڑھی کے اگے بریک لگائ جس میں آگے ڈرائیور اور پیچھے ایک لش پش فیشن ایبل کالے شیشے والا چشمہ پہنے 40 45 سالہ آنٹی بیٹھی تھی ...آنٹی کار سے باہر نکلی اور سردار سے مخاتب ہوئ آنٹی:- کس طرح دہۓ ھیں خربوزے سردار :- جی 60 روپے کلو بہت میٹھے ہیں آنٹی :- اچھا تو اگر پھیکا نکلے تو سردار:- تو پھیکا خربوزہ میرا . اس کے بعد آنٹی باری باری کچھ خربوزوں کو سونگنے لگی ابھی چار پانچ خربوزوں کو ہی آنٹی نے سونگا تھا اور اب کی بار آنٹی نے ایک بڑا خربوزہ اٹھا کر سونگا جو کے وزن میں سوا کلو یا ڈیڑھ کلو کا ھو گا .خربوزہ سونگتے ہی آنٹی کو پتہ نہیں کس کمبخت مارے نے اس قدر شدت سے یاد کیا کہ آنٹی نے زور دار چھینک مارری اور آنٹی کے ناک میں موجود سارے کا سارا بلغم اور ریشہ ہاتھ میں پکڑ ے خربوزے پر جا گرِا . یہ منظر دیکھ کر میری تو ہنسی قابو میں نہ رہی .. .اتنی بڑی چھینک کے بعد آنٹی شرمندگی کے انداز میں سردار سے سوری بولی سردار :- سوری ووری کوئ نہیں اب یہ خربوزہ آپ کا ھوا اور اس کے 80 روپے آپ کو دینے ہونگے ... آنٹی نے چپ چاپ 100 کا نوٹ دے کر 20 روپے واپس لیۓ اور خربوزہ بھی وہیں چھوڑ کر کار میں بیٹھ کر چلی گئ....
ttttttt

