-->

تو نہیں ہوئی مگر سام سنگ نے اس معاملے کو دیکھنا شروع کردیا ہے۔ سام سنگ کی تاریخ کا مہنگا ترین اسمارٹ فون کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ' ہم اس معاملے کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس سے آگاہ ہیں اور ہماری ٹیمیں اسے دیکھ رہی ہیں، پریشان صارفین براہ راست ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں'۔ اگرچہ ابھی تک اس حوالے سے بہت زیادہ دعویٰ تو سامنے نہیں آئے مگر جو بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں وہ کافی تشویشناک ہیں۔ ریڈیٹ پر ایک صارف نے لکھا ' گزشتہ شب ڈھائی بجے کے قریب میرے فون نے میری پوری فوٹو گیلری میسج ایپ کے ذریعے میری گرل فرینڈ کو بھیج دی اور میسج ایپ میں اس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں آیا، مگر ٹی موبائل لاگز میں اس کا ریکارڈ محفوظ رہا'۔ بعد ازاں کئی افراد نے بھی اس سے ملتے جلتے تجربے کا دعویٰ کیا، جن میں سے ایک نے لکھا ' میری بیوی کے فون سے بھی گزشتہ رات ایسا ہوا تھا اور مجھے بھی اس سے پہلے یہ تجربہ ہوچکا ہے، میری بیوی کی گیلری جب مجھے ٹیکسٹ میسج سے ملی تو اس کے فون میں اس کوئی ثبوت موجود نہیں تھا'۔ سام سنگ کا ایسا اسمارٹ فون پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تصاویر ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے کیسے صارف کے فون سے کسی دوسرے کے پاس جارہی ہیں، تاہم متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ایسا اس وقت ہوا جب ان کی ڈیفالٹ ٹیکسٹ میسجنگ ایپ میں رچ کمیونیکشن سروسز (آر سی ایس) کو ان ایبل کرنے کی اپ ڈیٹ ہوئی۔ آر سی ایس ایس ایم ایس کے متبادل کے طور پر گوگل کی جانب سے متعارف کرایا جائنے والا نظام ہے جس کا مقصد میسجنگ کے اس پرانے نظام کو جدید کرنا ہے۔ سام سنگ کی جانب سے فی الحال اس کا کوئی حل تو نہیں بتایا گیا، تاہم کسی پریشانی سے بچنے کے لیے صارفین کسی اور ٹیکسٹ میسجنگ ایپ جیسے گوگل کی اینڈرائیڈ میسجز پر سوئچ کرسکتے ہیں یا سام سنگ میسجز ایپ کی فون اسٹوریج تک رسائی ڈس ایبل کرسکتے ہیں۔

  نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت کی الیکٹرانکس اور
انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کہا ہے کہ جب پیغام رسانی کے پلیٹ فارم جھوٹی اور غلط اطلاعات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو وہ ذمہ داری اور جوابدہی سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ جب پیغام رسانی کے پلیٹ فارم جھوٹی اورغلط اطلاعات پھیلانے کے لیے استعمال کیے جائیں گے تو وہ ذمہ داری اور جوابدہی سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔وزارت کا کہنا تھا کہ اس نے واٹس ایپ کو واضح طور



  پر یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ اس صورت حال کے تدارک کے لیے وہ فوری اقدامات کرے اور یہ یقینی بنائے کہ اس کا پلیٹ فارم بدنیتی پر مبنی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔وزارت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے حکام ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بھارت میں 20 کروڑ سے زیادہ افراد واٹس اپب استعمال کرتے ہیں اور یہ دنیا بھر میں پیغام رسانی کی سب سے بڑی سروس ہے۔فیس بک اور واٹس ایپ نے فوری طور پر حکومتی بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن واٹس ایپ نے اس سے قبل برطانوی نیوز ایجنسی سے کہا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو جھوٹی خبروں کی شناخت کے متعلق تربیت دے رہا ہے اور اپنی پیغام رسانی کی سروس میں تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔واٹس ایپ پر بچوں کے اغوا سے متعلق جھوٹے پیغامات پھیلنے کے نتیجے میں پچھلے سال کے دوران 10 مختلف بھارتی ریاستوں میں کم ازکم 31 افراد کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ان ہلاکتوں میں 5 وہ افراد بھی شامل ہیں جنہیں مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اتوار کے روز ایک ہجوم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔


Back To Top