قصور جنسی واقعات اور ڈارک ویب.
قصور تین سو بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز بنا کر بیچنا اور بارہ بچیوں کا قتل اس کی ڈارک ویب سے جڑی باتوں سے کافی تجسس تھا کہ اس ڈارک ویب کے بارے میں معلومات ہونی چاہیے انٹرنیٹ بارے معلومات کافی حد تک ہیں میرا شعبہ بھی یہی ہے تو دو دن سے ڈارک ویب تک ایکسیس کی کوشش میں تھا سو آج ڈارک ویب سائٹس تک ایکسیس مل گیئ اس کے لیے ہائی سپیڈ کمپیوٹر، ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کے ساتھ آپ کو چار ملکوں کی کم سے پروکسیز بدلنی پڑتی ہیں اس کے بغیر ایکسیس ممکن نہیں ہے ہیکرز اس چیز کو سمجھتے ہیں کسی ایک ملک کی پراکسی بدل کر بھی آپ اس میں ایکسیس نہیں کر سکتے مثال کے طور پر پہلی پروکسی امریکہ، تو اس پراکسی کو جرمنی وہاں سے چاینا اور لاسٹ میں بینکاک کی پراکسی پرت در پرت بدلنے پر ایکسیس ممکن ہے اتنے میں انٹرنیٹ سپیڈ اور کمپیوٹر ہی جواب دے جاتے ہیں بہرکیف گوکل پنگ یاہو تو کچھ بھی نہیں لاکھوں کی تعداد میں ویب سائٹ موجود ہیں اور یہ دنیا کی وہ کمیونٹی ہے جن کو ہم جرایم پیشہ یا مافیا کہتے ہیں یہاں منشیات کا آن لائن کاروبار سے لے کر اسلحہ کیا ہر وہ کچھ ملتا ہے جو بھی دنیا میں ممنوع سمجھا جاتا ہے ایلومینیٹی دجال کے پیروکار، شیطان کے پیروکار یہاں ایسی ویڈیوز ایسی ویبسائٹ موجود ہیں جن کا عام آدمی وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا گوگل ان چیزوں سے بہت دور ہے پوری دنیا نے اس پر بین لگا کر اسکو بلاک کیا ہوا ہے یورپی ممالک میں ان تک ایکسیس کرنے والے پر بھی اگر وہ پکڑا جائے تو اسکو قید ہو جاتی ہے یہاں انسانوں کو لایو قتل کرنے کی ویڈیوز زبردستی ریپ کی ویڈیوز لایو ریپ ویڈیوز اور اس قسم کا مواد ویب سائٹس پر موجود ہیں لیکن ان میں ایکسیس کے لیے ڈالرز کی ضرورت ہے ایسے چایلڈ پورن اور مرڈرڈ یہ اس کا سب سے اہم اور مہنگا حصہ ہے یہ مکمل وزٹ کے بعد ایک بات تو مجھے کنفرم ہو گئ ہے کہ قصور کا ہی کوئی ایسا شخص جو کہ آی ٹی کا ماسٹر یے وہ ہیکر بھی ہے کیونکہ کوئی ہیکر ہی یہاں تک ایکسیس کر سکتا ہے کسی ایسے شخص کی ان ویب سائٹس تک رسائی ہوئی اس نے وہاں اس طرح پیسہ کمانے کا طریقہ سیکھا اس نے وہاں کے اثر رسوخ رکھنے والے شخص کو پیسہ کمانے کے اس طریقے کی طرف اسکو راغب کیا اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا اس پوری گیم میں سب سے اہم کردار وہ آی ٹی کا ماہر ہے جس کی ڈارک ویبسائٹ تک رسائی ہے جو وہاں یہ ڈیلنگ کرتا ہے اور اس کے پیچھے آہستہ آہستہ یہ سارا گینگ تیار ہو گیا پیسہ آتا رہا گینگ بڑھتا رہا اور لازمی سی بات ہے اس میں پولیس اور کس بڑے سیاست دان کو بھی حصہ جاتا ہے جو انکی سرپرستی کرتا ہے اسکو ہر ویڈیو کے بعد اس کا حصہ پہنچ جاتا ہے اور یہ واقعات عمران کو پھانسی لگانے سے نہیں رکنے والے کیونکہ وہ ہیکر یا وہ آی ٹی سپیشلسٹ عمران خود نہیں ہو سکتا یہ صرف ایک کارندہ ہے اور یہ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد یہ دوبارہ ہوگا اور اب ہو سکتا ہے یہ ملک کے دوسرے حصوں میں کریں اگر اس گینگ کو پکڑ کر ان کے سہولت کاروں سمیت پھانسی نہ لٹکایا گیا تو یہ گینگ اور یہ گند پورے پاکستان تک تیزی سے پھیلے گا.اور ایک بات کہ چایلڈ پورنو گرافی مختلف لوگوں کے ساتھ زبردستی کی ویڈیو فلما کر بیچنا الگ ہے اور اس کے بعد تشدد کے بعد قتل کر دینا الگ یہ دونوں ویڈیوز یہ الگ الگ سایٹس پر بیچتے رہے ہیں یہ کوئی ایک سایٹ نہیں یہ ڈارک ویب میں لاکھوں سایٹس اور اس کے کروڑوں ویورز ہیں ایسی ایک ایک ویڈیو کو دیکھنے کے ڈالرز پے کرنے پڑتے ان کے ممبرز کی تعداد کروڑوں میں ہے مثال کے طور پر اگر ایسی ایک ویڈیو دیکھنے کے بیس سے سو ڈالر بھی لیں تو کروڑوں ویورز یہ معاملہ اربوں ڈالرز تک جا پہنچتا ہے جتنے زیادہ ویوز ہوں گے اتنے ہی پیسے اس گینگ کو ملیں گے یہ ایک ریگولر سسٹم ہے یہ ہر ویڈیو پر جب تک وہ چلتی رہے گی اس پر ویورز آتے رہیں گے انکو بھی ڈالرز، یوروز، پاؤنڈز میں پیسہ ملتا رہے گا یہ ہے اس کیس کی سماعت اصل حقیقت کہ کیسے یہ ان ویڈیوز سے اربوں روپیہ کما رہے ہیں کروڑ کروڑ بھی بیس بڑے لوگوں کو حصہ داری کا ملتا رہے تو بیغیرت آنکھیں بند ہی رکھیں گے قصور کے پولیس آفیسرز کیسے کروڑوں پتی بن گیے کیسے حکومتی کارندے اس ملوث ہیں سمجھنا مشکل نہیں.
